April 17, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sat-television.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
UNICEF
UNICEF

اسلام آباد۔18مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ میں بچوں کی ایجنسی کے سربراہ نے اتوار کو ہیٹی میں افراتفری کی صورتحال کی سنگینی بارے جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریباً ‘میڈ میکس’ کے ایک منظر کی طرح ہے، جس میں تشدد اور لاقانونیت کے بعدکی عکاسی کی گئی ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نےسی بی ایس کے ٹاک شو فیس دی نیشن میں کہا کہ ہیٹی میں خوفناک صورتحال ہے ۔وہاں بہت سے لوگ شدید بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں ان کے لیے خاطر خواہ امداد فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دارالحکومت پورٹ-او-پرنس کے بڑے حصوں کے ساتھ ساتھ دوسری جگہ جانے والی اہم سڑکوں کی صورتحال سخت خراب ہے کیونکہ وہاں شدت پسند باغی گرہوں کا کنٹرول ہے۔

رسل نےکہا کہ یہ منظر 1979 کی فلم میڈ میکس کی طرح لگتا ہے۔ہیٹی، جو پہلے ہی خشک سالی، قدرتی آفات اور ایک کمزور حکومت کی زد میں ہےبنیادی ضروریات کی شدید قلت ہے۔اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ نے خبردار کیا ہےکہ اس نے لاکھوں افراد کو کمزور کر دیا ہے جواقتدار سنبھالنے کے لیے ایک عبوری گورننگ کونسل کے قیام کا انتظار کر رہے ہیں ۔ہیٹی کی غیرمقبول وزیر اعظم ایریل ہنری نے دباؤ کے تحت پیر کو اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی امدادی کارکنوں میں سے بعض پر حملہ کیا گیا اور تاوان کے لئے اغوا کیا گی ہے۔

کچھ روز قبل یونیسیف کی امدادی کھیپ کو بھی لوٹ لیا گیا جس کا مقصد مصیبت زدہ خواتین اور بچوں کو امداد فراہم کرنا تھا۔ اس کھیپ میں زچگی، نوزائیدہ اور بچوں کی صحت کے لیے اہم سامان موجود تھا جسے پورٹ-او-پرنس کی مرکزی بندرگاہ پر لوٹ لیا ۔دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ہم امریکی شہریوں کی اس وقت تک مدد جاری رکھیں گے جب تک تجارتی آپشنز دستیاب نہیں ہیں اور سیکیورٹی ماحول ہمیں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

واضح رہے کہ ہیٹی کو2ہفتوں سے ایک گینگ بغاوت کی وجہ سے وحشیانہ اور اچھی طرح سے مسلح گروپوں کے طور پر متاثر کیا گیا ہے۔غیر ضروری امریکی سفارت خانے کے عملے کو گزشتہ ہفتے نکالا گیا تھا۔ دو جیلوں پر حملے کے بعد ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہےجس نے ہنری کو گرانےکی کوشش کی گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *