April 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sat-television.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

پاکستان میں ۱۱؍ سال سے قیدہندوستانی شہری عدالت کے حکم کے باوجود رہائی سے محروم۔ سندھ عدالت نے محکمہ داخلہ کی سخت سرزنش کرتے ہوئے اگلی سماعت تک تمام کارروائی مکمل کرنے کا حکم دیا۔ اس حکم کی تعمیل نہ ہونے کی صورت میں اس سے متعلقہ تمام افسران کو کورٹ میں پیش ہونے کی ہدایت۔

Sindh High Court. Photo: INN

سندھ ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

پاکستانی عدالت نے عدالتی احکامات کے باوجود تقریباً ۱۱؍سال قبل گرفتار کئے گئے ایک ہندوستانی شہری کو ملک بدر کرنے میں ناکامی پر وزارت داخلہ کی سرزنش کی ہے اور متنبہ کیا ہے کہ متعلقہ سیکریٹری کوپیش کرکے وضاحت کی جائے گی کہ اس کا محکمہ ایسے معاملات میں کس طرح کام کرتاہے۔ جمعہ کو جسٹس محمد کریم خان آغا کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کی یک رکنی بنچ نے وزارت داخلہ کو ہدایت دی کی کہ وہ معاملےکے حقائق سے بخوبی واقف افسر تعینات کرے یا اگلی سماعت پر تعمیل رپورٹ داخل کرے۔ 
 ڈان اخبار کے مطابق عبدالمغنی کو ۲۰۱۳ء میں موبینا ٹاؤن پولیس اسٹیشن نے ابوالحسن اصفہانی روڈ کے قریب سے گرفتار کیا تھا اور بیرون ملک شہری ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ ایک سیشن عدالت نے اسے ۲۰۱۷ء میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ مجرم نے اپنی سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سماعت کے دوران عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اپیل کنندہ ہندوستانی شہری ہے جبکہ وزارت داخلہ کوششوں کی کمی کی وجہ سے بظاہر اس کی قومیت کی تصدیق نہیں کر سکی۔ بنچ نے کہا کہ چونکہ اپیل کنندہ پہلے ہی اپنی سزا کاٹ چکا ہے، اس لئے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محکمہ داخلہ کے ذریعے اس کی ملک بدری کے انتظامات کرے۔ 
تاہم، گزشتہ سماعت پر یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ محکمہ داخلہ سندھ کےعہدیدارنے کہا تھا کہ اس موضوع پر وزارت داخلہ سے خط و کتابت کی گئی تھی اور اس نے کوئی جواب نہیں دیا جس کے بعد عدالت نے سیکریٹری کو اس کیس سے واقف ایک اہلکار کو بھیجنے کیلئےیہ بتانے کیلئے کہ اپیل کنندہ کو ابھی تک ملک بدر کیوں نہیں کیا گیانوٹس جاری کیا تھا۔ جمعہ کو وزارت داخلہ کی طرف سے ایک سیکشن افسر نے کہا کہ ملک بدری کچھ طریقہ کار کے مسائل کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ جج نے اپنے حکم میں کہا کہ ’’مجھے یہ بہت غیر معمولی لگتا ہے کہ سات سال گزر جانے کے بعد، وزارت داخلہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکی کہ اپیل کنندہ ہندوستانی شہری ہے یا نہیں۔ ‘‘بنچ نے کہا کہ جب سیکشن آفیسر کا سامنا ہوا تو وہ اس بات سے بھی واقف نہیں تھے کہ کیا ہندوستانی حکومت کے پاس بھی نادرا جیسا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ سسٹم (آدھار) ہے۔ 
 انہوں نے مزید کہا کہ اگراپیل کنندہ کی غیر قانونی ملک بدری سے متعلق مورخہ ۲۴؍ جولائی ۲۰۱۷ء کےحکم کی اگلی سماعت تک تعمیل نہیں کی جاتی ہے، اس صورت میں عدالت کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا کہ وہ سیکریٹری، وزارت داخلہ، حکومت پاکستان کو ذاتی طور پر وضاحت کیلئے طلب کرے کہ ان کا محکمہ اس طرح کے معاملات میں کس طرح کام کر رہا ہے۔ عدالت نے اپنے دفتر سے کہا کہ وہ اس حکم کی کاپی سیکرٹری داخلہ کو معلومات اور تعمیل کے لیے بھیجے اور معاملے کی سماعت کے لیے اگلی تاریخ ۱۳؍اپریل مقرر کرے۔ 
 عدالت نے کہا کہ ’’یہ توقع کی جاتی ہے کہ سماعت کی اگلی تاریخ پر سیکریٹری، وزارت داخلہ معاملےکے حقائق کے ساتھ اچھی طرح سے خدمات انجام دینے والے ایک افسر کو بھیجے گا یا اپیل کنندہ کی ملک بدری کے بارے میں ڈی اے جی (ڈپٹی اٹارنی جنرل) کے ذریعے اپنی تعمیل رپورٹ پیش کرے گا۔ ‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *