April 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sat-television.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

کنیڈا اور امریکہ کی مختلف تنظیموں نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو قومی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی پاداش میں ہتھیاروں کی فراہمی پر روک لگائے۔ کنیڈا نے اس ضمن میں ایک قرار داد منظور کی ہے اور اس نے گزشتہ جنوری سے اسرائیل کو جنگی سازو سامان کی فراہمی روک رکھی ہے۔ دوسری جانب، آکسفیم اور ہیومن رائٹس واچ نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیار سپلائی نہ کرے۔

The people of Gaza are forced to live in ruins. Photo: PTI

غزہ کے لوگ کھنڈروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی

کنیڈا کے ایک سرکاری ذرائع کے مطابق ملک اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل روک رہا ہے۔ یہ فیصلہ منگل کو کیا گیا ہے کیونکہ اوٹاوا نے غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف جنگ کے بعد سے اسرائیل کو صرف ’’غیر مہلک‘‘ اشیاء جیسے مواصلاتی آلات برآمد کئے ہیں۔ ذرائع نے مزید کہا کہ جنوری کے بعد سے کوئی برآمدنہیں ہوئی ہے۔ ۲۰۲۱ء میں ۱۹؍ ملین ڈالر اور ۲۰۲۲ء میں ۱۵؍ ملین ڈالر کے ساتھ اسرائیل کنیڈا کے ہتھیاروں کی برآمدات کے معاملے میں سرفہرست رہا ہے۔ 
مارچ میں فلسطین کے وکلاء اور کنیڈیائی نژاد فلسطین کے اتحاد نے کنیڈا کی حکومت کے خلاف ایک شکایت درج کرائی جس میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات معطل کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اوٹاوا ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ پیر کو کنیڈا کی پارلیمنٹ نے ایک غیر پابند قرار داد منظور کی جس میں عالمی برادری سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کیلئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ و زیر خارجہ میلانیا جولی نے ٹورنٹو اسٹار اخبار کو بتایا کہ یہ ایک نا گزیر حقیقت ہے۔ 

 آکسفیم اور ہیومن رائٹس واچ کی مانگ
اسی طرح کی ایک کوشش امریکہ میں بھی جاری ہے جب آکسفیم اور ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر کے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ امریکہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی فوری طور پر معطل کرے۔ ہیومن رائٹس واچ کی واشنگٹن ڈائریکٹر سارہ یاگر نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی معقول وجوہات ہیں کیونکہ امریکی قانون ان حکومتوں کیلئے ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی لگاتا ہے جو انسانی زندگی کیلئے ناگزیر امداد کو روکتی ہیں یا امریکی ہتھیاروں سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ غزہ میں جاری وحشیانہ کارروائی کے پیش نظر اسرائیلی حکومت کی جانب سے بائیڈن انتظامیہ کو یہ یقین دہانیاں کہ وہ امریکی قانونی تقاضوں کو پورا کر رہی ہے، قابل اعتبار نہیں ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آئی ایل او کا انتباہ: غزہ اور مغربی کنارہ میں بے روزگاری کی شرح میں ۵۰؍ فیصد اضافہ

تنظیموں نے امریکی حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی جس میں بین الاقوامی قوانین کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کی ایک وسیع فہرست درج کی گئی ہے، جس میں اسپتالوں پر یا اس کے قریب اندھا دھند یا غیر متناسب حملے اور انسانی امداد کو منظم طریقے سے روکنا جیسے اقدامات شامل ہیں۔ جو اسرائیلی یقین دہانیوں کے برعکس ہیں۔ 
آکسفیم امریکہ میں امن و سلامتی کے اسوسی ایٹ ڈائریکٹر اسکاٹ پال نے ایک بیان میں کہا کہ ’’بائیڈن انتظامیہ کیلئے اسرائیل کو مہلک ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کا وقت گزر چکا ہے، اور ہم ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ابھی ایسا کریں اور غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی کے خاتمے کیلئے اقدام کریں۔ 
 واضح رہے کہ اسرائیل نے محصور شدہ خطے پر اپنی وحشیانہ بمباری میں کم از کم ۳۱؍ ہزار ۸؍ سو ۱۹؍ فلسطینیوں کو شہید اور ۷۳؍ ہزا ۹۳۴؍ کو زخمی کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی جنگ نے غزہ کی ۸۵؍ فیصد آبادی کو بد ترین ناکہ بندی جس میں زیادہ تر خوراک، صاف پانی اور ادویات شامل ہیں اندرونی نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے جبکہ خطے کا۶۰؍ فیصد بنیادی ڈھانچہ مکمل یا جزوی طور پر تباہ کیا جا چکا ہے۔ 
اسرائیل پر عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کا الزام ہے۔ جنوری میں عالمی عدالت نے ایک عبوری حکم میں تل ابیب کو حکم دیا تھا کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی افواج نسل کشی کی کارروائیوں کا ارتکاب نہ کریں اور اس بات کی ضمانت دی جائے کہ غزہ میں شہریوں کو انسانی امداد فراہم کی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *