April 17, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sat-television.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
TOPSHOT - This handout picture courtesy of the US Navy taken on October 19, 2023 shows the Arleigh Burke-class guided-missile destroyer USS Carney (DDG 64) defeating a combination of Houthi missiles and unmanned aerial vehicles in the Red Sea. A US Navy ship in the Red Sea on October 19, 2023 shot down missiles and drones that had been fired by Iran-backed Huthi rebels in Yemen, possibly at Israel, the Pentagon said. Three land-attack cruise missiles and several drones were intercepted by a destroyer, Pentagon spokesman Brigadier General Pat Ryder told reporters. The attack was launched by Huthi forces in Yemen potentially toward targets in Israel, he added. Thousands of civilians, both Palestinians and Israelis, have died since October 7, 2023, after Palestinian Hamas militants based in the Gaza Strip entered southern Israel in an unprecedented attack triggering a war declared by Israel on Hamas with retaliatory bombings on Gaza.

امریکی فوج نے جمعرات کو کہا کہ اس نے دو بحری جہاز شکن بیلسٹک میزائل اور ایک بغیر پائلٹ کے سطحی بحری جہاز تباہ کر دیا ہے جو حوثیوں نے یمن سے داغا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا، “یہ بات طے شدہ تھی کہ یہ ہتھیار خطے میں اتحادیوں اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ تھے۔”

امریکی محکمۂ دفاع کے ایک سینئر اہلکار نے جمعرات کو بتایا کہ یمن کی حوثی ملیشیا نے گذشتہ سال اپنے حملوں کے اواخر سے یمن کے پانیوں میں شہری اور فوجی دونوں جہازوں پر تقریباً 50 حملے کیے۔

امریکی اور برطانوی افواج کے مسلسل فضائی حملوں کے باوجود ایران کے حمایت یافتہ حوثی بحیرۂ احمر کے اہم تجارتی راستے پر جانے والے تجارتی جہازوں کو بدستور نشانہ بنا رہے ہیں۔

اسسٹنٹ سیکرٹری دفاع سیلسٹی والنڈر نے قانون سازوں کو بتایا، “بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی اور بحری جہازوں کے خلاف کم از کم 50 حملوں سے حوثی عالمی تجارت کے لیے اس اہم راستے کو متأثر کرنا چاہتے ہیں۔”

نومبر میں اپنی مہم کا آغاز کرتے ہوئے حوثیوں نے غزہ میں فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر خلیجِ عدن اور بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے حملے اسرائیلی، برطانوی اور امریکی جہازوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جانے والے جہازوں پر بھی جاری ہیں جس کے نتیجے میں یمن کے ساحل کے ساتھ سمندری ٹریفک میں خلل پیدا ہوتا ہے۔

ان حملوں کے نتیجے میں بحیرۂ احمر کے تجارتی راستے پر چلنے والے بحری جہازوں کے لیے بیمہ کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے جس نے نقل و حمل کی کئی کمپنیوں کو افریقہ کے جنوبی سرے کے ارد گرد نمایاں طور پر طویل راستے کا انتخاب کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *