April 14, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sat-television.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
6 ججز کا خط، سپریم کورٹ ججز کا فل کورٹ اجلاس، وزیراعظم آج چیف جسٹس سے ملاقات کریں گے

اسلام آباد، لاہور  (اعظم گِل+ نوائے وقت رپورٹ+ خبر نگار+وقائع نگار )   وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف آج چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ بھی شریک ہونگے۔ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس ہوا جو دو گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے تمام ججز نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے لکھے گئے خط کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ ججز کا فل کورٹ اجلاس آج دوبارہ ہونے کا بھی امکان ہے۔ زرائع کے مطابق وزیراعظم اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ آج چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کریں گے،  وزیراعظم کی چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات آج جمعرات کو دوپہر دو بجے سپریم کورٹ میں ہوگی، وزیراعظم کے ہمراہ وزیرقانون اور اٹارنی جنرل بھی ہوں گے.وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے بھی چیف جسٹس کے ساتھ وزیراعظم کی ملاقات کی تصدیق کی ہے. زرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان ملاقات میں سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ بھی شریک ہونگے، وزیراعظم شہباز شریف کی اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ سے آج ہونے والی ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل ہے جس میں وفاقی حکومت کی جانب سے انکوائری کمیشن یا جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سمیت تمام پہلوؤں پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل کل اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ سے چیمبر میں ملاقا ت کی۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں ججز پر لگائے گئے الزامات بارے خط پر غور کیا گیا. چیف جسٹس سے ملاقات کے بعدصحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں اٹارنی جنرل نے کہاکہ ججز کے خط بارے معاملہ سنجیدہ نوعیت کا ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہیے ۔ دوسری جانب وکلاء  کے سب سے بڑے فورم پاکستان بار کونسل نے پانچ اپریل کو ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا جس میں ججز کے خط پر غورہوگا. جاری کردہ اعلامیہ میں ججز کے الزامات کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان بار کونسل کا اعلامیہ میں مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے تین سینئر ججز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے،الزامات کی تحقیقات لازمی ہیں، سپریم جوڈیشل کونسل ایسے الزامات کی تحقیقات کا فورم نہیں ہے،الزامات کی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس پاکستان کو کمیٹی تشکیل دینی چاہیے جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے ،عدلیہ اور ججز کی نجی زندگی میں مداخلت کی نہ صرف مذمت ہونی چاہیے بلکہ اس کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے۔  علاوہ ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں کی عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت کے الزام پر اسلام آباد ، لاہور، پشاور اور سندھ ہائیکورٹ بار زججز کی حمایت میں سامنے آ گئیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط پر 4 بار ایسوسی ایشنز نے تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے اور چیف جسٹس پاکستان سے انکوائری اور ملوث افراد کے خلاف کاررائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھنے کے معاملے پر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس ہوا جس دوران بار ایسوسی ایشن نے عدلیہ کی آزادی و خودمختاری کے منافی اقدامات اور مداخلت پر لکھے گئے خط پر تشویش کا اظہار کیا۔ اعلامیے کے مطابق عدلیہ کی آزادی پر حرف آنا نظام عدل، انصاف اور معاشرے کیلئے شدید نقصان دہ ہے، آئین و قانون کی عملداری، عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری کے اصولوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اعلامیے میں چیف جسٹس پاکستان سے انکوائری اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کی خاطر تحریک بھی چلانا پڑی تو گریز نہیں کریں گے۔ آزاد اور خود مختار عدلیہ کے آئینی اصول کی پاسداری کرتے ججز کے پیشہ ورانہ امور کی آزادانہ ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس ہوا جس کے عالمیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کا جائزہ لیا گیا۔ سندھ ہائیکورٹ بار نے ججز کے خط پر تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دی جائے۔ سندھ ہائیکورٹ بار نے عدالتی معاملات میں مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے معاملات میں مداخلت عدالتی نظام پر ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ پنجاب بار کونسل  نے ججز خط کے تناظر میں 30  مارچ کو ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ وائس چیئرمین کامران بشیر مغل  اور چیئر مین ایگزیکٹو کمیٹی پیر عمران اکرام بودلہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ججز خط کا سپریم کورٹ فوری نوٹس لے، عدالتی امور مین مداخلت قابل مذمت ہے جو کسی صورت مہا قابل قبول نہیں ہے، خط تشویش نک عمل ہے  اور عدلیہ کے وجود  پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ عدلیہ کے خط کی مکمل تحقیقات ، انکورئری ،  اور سنجیدہ تحقیقات کی جائیں۔  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *