May 24, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/sat-television.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
جنگ بندی مذاکرات کے لیے قطر کا اسرائیل اور حماس سے 'ڈو مور' کا مطالبہ

قطر کے ایک سینئیر ذمہ دار نے حماس اور اسرائیل دونوں پر زور دیا ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اور اس کی کامیابی کے لیے ‘ڈو مور’ کی طرف آئیں۔ نیز اس مقصد کے لیے زیادہ سنجیدگی اور زیادہ وابستگی کا مظاہرہ کریں۔

اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں قطری ذمہ دار نے دونوں متحارب فریقوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جنگ بندی معاہدے کے لیے کوشش کو کامیاب بنائیں تاکہ یرغمالیوں کی رہائی بھی ممکن ہو اور فلسطینی عوام کو امدادی سامان کی ترسیل میں تیزی بھی ممکن ہو سکے۔اسرائیل اور حماس سے ڈو مور کا یہ مطالبہ قطری ذمہ دار نے اسرائیلی اخبار ‘ہاریٹز’ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا۔نیز ان کا انٹرویو ہفتے کی شام مقامی ٹی وی پر بھی نشر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا اسرائیل آج بھی غزہ کے انتہائی جنوب میں واقع رفح شہر پر حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ حالانکہ اسرائیل جانتا ہے کہ رفح میں اس وقت پندرہ لاکھ بے گھر فلسطینی غزہ جنگ کے دوران اسی رفح میں ہی رہ رہے ہیں۔قطر جس نے حماس کی سیاسی قیادت کو اپنے دارالحکومت میں اپنا ہیڈ کوارٹر کھولنے کی کئی برسوں سے اجازت دے رکھی ہے اور ان جنگ بندی مذاکرات میں ایک کلیدی ثالث کے طور پر موجود ہے۔ جبکہ اس نے نومبر 2023 میں ہونے والی جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا۔جس کے نتیجے میں اسرائیل کے درجنوں یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا۔فریقین کے اس کے بعد بھی مذاکرات کے متعدد دور ہوئے ہیں، لیکن ماہ نومبر کے بعد جنگ بندی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔اس صورت حال سے مایوس ہو کر قطر نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک ثالث کے طور پر اپنے کردار کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔اس سلسلے میں قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے حماس اور اسرائیل دونوں پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا ‘ہر فریق نے اپنے فیصلے سیاسی مفادات کی بنیاد پر کیے ہیں نہ کہ شہریوں کی بھلائی کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ اگرچہ ہم دونوں طرف سے زیادہ عزم اور زیادہ سنجیدگی دیکھنے کی امید کر رہے تھے۔’انہوں نے انٹرویو میں ‘ہارٹز’ سے موجودہ مذاکراتی حالت کی تفصیلات بیان نہیں کیں، البتہ یہ کہا ‘دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔’ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ‘اگر دونوں طرف سے عزم کی تجدید کی گئی تو مجھے یقین ہے کہ ہم کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، تاہم دونون فریقوں کو کچھ مزید کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکے۔’

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *